گیندے کے پھُولوں کی کاشت، کیڑے ، بیماریاں اور علاج

 

گیندے کے پھُولوں کی کاشت، کیڑے ، بیماریاں اور علاج

تعارف : گیندے یعنی میری گولڈ کو گُلِ اشرفی  بھی کہا جاتا ہے۔یہ قدیم ترین  پھُولوں میں سے ایک ہے۔اس کی کاشت کرنا آسان اورکم خرچ ہے۔  یہ سخت جان سالانہ پودا   ہے۔ اس کے  پھُول پُورا  موسم گرما کھلتے رہتے ہیں اور ان پر کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کا  حملہ بھی بہت کم ہوتا ہے۔

پودے کی اونچائی : پودے کی مختلف اقسام کی مختلف اونچائی ہوتی ہے۔ اس کی اونچائی 6 انچ سے 3 فٹ  تک ہوتی ہے۔

 پھُولوں کا رنگ:   گیندے کے پھُول   پیلے ، سنہری اور اورنج کلر کے ہوتے ہیں ۔ کچھ  نئی اقسام میں دھاری دار ، دو رنگی  یا کریمی سفید پھُول کھلتے ہیں۔


پھُول کا سائز : گیندے کے  پھُول  کا سائز گُلِ داؤدی کے پھُول جتنا ہوتا ہے۔

پھُول کی اقسام :گیندے کے پھُول کی گھروں اور باغات میں کاشت کی جانے والی دو بڑی اقسام ہیں۔

French Marigold (Tagetes Patula)

African Marigold (Tagetes Erecta)

فرنچ میری گولڈ :فرنچ میری گولڈ کے پھُولوں کا سائز چھوٹا  یعنی 2 انچ تک ہوتا ہے۔ اس کا پودا  جھاڑی نما ہوتا ہے اور ہر ٹہنی پر صرف ایک ایک پھُول کھلتا ہے۔ فرنچ میری گولڈ کے پودے کی اونچائی  6 سے 18 انچ تک ہوتی ہے۔ افریقن میری گولڈ کی نسبت انھیں آندھی طوفان میں کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

افریقن میری گولڈ : افریقن میری گولڈ کے پھُول سائز میں بڑے اور ڈبل یعنی ہر ٹہنی پر دو پھُول  ہوتے ہیں جو موسم گرما کے وسط سے شدید سردی شروع ہونے تک کھلتے رہتے ہیں۔ افریقن میری گولڈ کے پودے کی اونچائی  3 فٹ تک ہوتی ہے۔ افریقن میری گولڈ کو عام طور پر امریکن میری گولڈ بھی کہا جاتا ہے۔

سنگل  اور ڈبل پھُول :  گیندے کے پھُول   اکہرے یعنی سنگل اور دوہرے یعنی ڈبل ہوتے ہیں۔ سنگل سے مراد  یہ ہے کہ ہر ٹہنی پر صرف ایک  پھُول کھلتا ہے اور ڈبل سے مرادیہ ہے کہ  ہر  ٹہنی پر دو   پھُول کھلتے ہیں۔

سنگل پھُول  والی اقسام:لیمن کوئین اورنج کنگ اور ریڈیو

ڈبل  پھُولوں  والی قسم :  ڈبل  پھُولوں والی صرف ایک ہی  قسم ہے جو  نیو آرٹ شیڈ کہلاتی ہے۔

پھُولوں پر درجہ حرارت کا اثر :  جب  درجہ حرارت  میں اضافہ ہوتا ہے تو   ڈبل پھُولوں والی قسم  پھُول  دینا  بندکردیتی ہے۔ در  اصل یہ سرد موسم کا پودا ہے اس لیے بہت زیادہ درجہ حرارت پر پھُول دینا بند کر دیتا ہے۔

پھُولوں کی چُنائی :   گُلِ اشرفی کے پھُولوں کی چنائی      پھُول کی عمر  ختم ہونے  سے پہلے پہلے کر لینی چاہیے یعنی مرجھانے سے پہلے کیوں کہ اگر  تاخیر کی جائے اور   پھُول کی پتیاں  مرجھا  کربیج بننا شروع ہو جائیں تو  اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پودے پر  پھُول یا تو سنگل اور چھوٹے لگتے ہیں یا پھر پھُول لگتے ہی نہیں۔ تاہم جو  پھُول مرجھا جائیں انھیں فوراً  توڑ لیا جائے کیوں کہ پودے  پر مسلسل  پھُول لانے کے لیے  مرجھائے ہوئے پھُول پودے سے  الگ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

گیندے کے پھُول کی  گُلدان میں عمر:  ان          پھُولوں  کی گُلدان میں عمر6 سے 10 دن تک ہے۔ گُلدان میں  پھُول کی عمر بڑھانے کے لیے  آدھی کھلی ہوئی کلیاں توڑ لی جاتی ہیں۔

پودوں کی رنگت :  میری گولڈ کے پودے گہرے سبز رنگ کے ہوتے ہیں اور ان کی تیز خُوشبو ہوتی ہے۔

گیندے کے پھُولوں کی کاشت کا  طریقہ: گیندے کے پھُولوں کی کاشت دو طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس کے بیج بو کر پنیری تیار کی جائے اور پھر یہ پنیری کیاریوں  یا  گملوں میں منتقل کر دی جائے ۔ جب کہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ  کسی نرسری سے تیار شدہ پنیری خرید کر  کیاریوں یا گملوں میں لگائی جائے۔

گیندے کے پھُولوں کی کاشت کا موسم :گیندے کے بیج   ستمبر ،   اکتوبر یا  موسمِ بہار کے آخر  میں یعنی مارچ اپریل میں  بوئے جاتے ہیں۔ بیج تقریباً  سات سےدس دن میں اُگ  آتے ہیں۔ بیج کے بہترین اُگاؤ کے لیے موزوں درجہ حرارت21 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔بیج  اُگنے کے تقریباً دس دن بعد پنیری کیاریوں  یا گملوںمیں منتقل کر دی جاتی ہے۔ 

کیاریوں میں پودوں کا درمیانی فاصلہ :فرنچ میری گولڈ کے  پودے 8 سے 10 انچ کے فاصلہ پراور افریقن میری گولڈ کے  پودے 12 سے 16 انچ کے  فاصلے پر لگائے جاتے ہیں۔

پودوں کے لیے پانی کی ضرورت :  جب پنیری کیاریوں میں یا گملوں میں منتقل کر دی جائے تو  اسے باقاعدگی سے پانی دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پنیری کی منتقلی کے بعد پہلے دو ہفتوں تک  مٹی میں  نمی ہمہ وقت موجود رہنی چاہیے تاکہ پودے جڑ پکڑ لیں۔ اس کے بعد ایک  ہفتے کے وقفے سے  تقریباً ایک انچ پانی دینا چاہیے۔ اگر کیاری کی مٹی ایک ہفتے سے پہلے ہی خشک نظر آئے تو اس وقت پانی دے دیا جائے۔

پودوں کی  ٹوک : جب پودے کچھ بڑے ہو جاتے ہیں تو ان کی کونپلیں توڑ کر ان کی ٹوک  کی جاتی ہے تاکہ پودے پر شاخیں زیادہ  آئیں۔

پودوں کو سہارے کی ضرورت:افریقن میری گولڈ  کے پودوں کو  آندھی اور طوفان  کے دوران میں گرنے سے بچانے کے لیے  سہارے کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ  ان پودوں کی اونچائی  3 فٹ تک ہوتی ہے۔

گیندے کے پھُولوں پر بیماریوں اور کیڑوں کا حملہ

گیندے کے پودوں پر تیلے کا حملہ ہوتا ہے جو پودے کو بد نما بنا دیتا ہے۔  گرم خشک موسم میں  سپائیڈر مائٹس ، سلگز،  لیف مائنرز، ایفڈز، سفید مکھی ، تھرپس،  اور کیٹر پلر  بھی  نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فنگس یعنی پھپھُوندی، گرے مولڈ اور وائرس سے پھیلنے والی  بیماریوں  کا حملہ بھی ہوتا ہے۔ وائرس کی بیما ریوں کا سبب سفید مکھیاں، تھرپس یا ایفڈز ہوتے ہیں۔

علاج :متاثرہ پودوں پر نوگاس اور میلاتھیان کا اسپرے کیا جائے۔

 :    رے بلائٹ   

Mycosphaerella Ligulicola     یہ بیماری فنگس مائکوسفریلا لیگولیکولا   

کی وجہ سے  ہوتی ہے۔  ابتدائی انفیکشن کی وجہ سے کلیوں کی شکل بگڑ سکتی ہے اور وہ پھٹ  سکتی 
ہیں۔ اس طرح پھول خراب ہوجاتے ہیں۔

مندرجہ ذیل دوائیں پتوں پر اسپرے کے لیے مؤ ثر ہیں:علاج: 

Tiger Brand Daconil Concentrate

ٹائیگر برانڈ کی ڈیکو نل کنسنٹریٹ

Bonide Mancozeb Flowable with Zinc Concentrate

بونائیڈ مینکو زیب فلوایبل زنک کے ساتھ کنسنٹریٹ

ترتیب و تدوین :  اکرام سعید

 وٹس ایپ :                             923481633298+

 


Post a Comment

0 Comments