پاکستان میں مکئی کی کاشت/فارمنگ، کیڑے، بیماریاں اور علاج

پاکستان میں مکئی کی کاشت/فارمنگ، کیڑے، بیماریاں  اور علاج

تعارف :  مکئی  اناج کاایک بڑا پودا ہے جو تقریباً 8 ہزار سال قبل میکسکو میں اُگایا جاتا تھا۔ مکئی اناج کی ملکہ  کہلاتی ہے کیوں کہ اس کی پیداواری صلاحیت دیگر اناجوں سے زیادہ ہے۔

 پاکستان میں مکئی  کی کاشت کے علاقے : مکئی کی کاشت ملک کے بیشتر علاقوں میں کاشت کی جاسکتی ہے۔

فصل کی تیاری :  مکئی کی فصل  60  تا 65 دنوں میں تیار ہو جاتی ہے۔

مکئی کی اقسام : مکئی کی مندرجہ ذیل6 بڑی اقسام ہیں۔

1۔ ڈینٹ کارن ، 2۔  چکمک مکئی ، 3۔ پوڈ کارن ، 4۔  پاپ کارن ،  5۔ فلور کارن ، 6۔ میٹھی مکئی

مکئی کی غذائی افادیت :

مکئی پاکستان میں مویشیوں  کا ایک مشہور چارہ اور پولٹری فیڈ کا ایک اہم جز ہے۔

 چوں کہ مکئی کے پودوں کے سبز تنوں اور دانوں میں کاربوہائیڈریٹ  یعنی نشاستے کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے لہذا اس کے پودےمویشیوں اور دانے پولٹری  کے لیے بہت مفید ہیں۔

  مکئی کے ہائبرڈ بیج سے اُگنے والی فصل چارے کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتی کیونکہ ان پودوں کی  اُونچائی اور ان میں  غذائیت کم ہوتی ہے۔

مکئی کی فصل کے لیے موزوں مٹی : ۔ مکئی کی کاشت کسی بھی مٹی میں کی جاسکتی ہے ۔مکئی کی  کاشت کے لیے  زرخیز زمین جس میں پانی کا  اچھا نکاس ہو بہتر ہے۔ بیج کی بوائی کے مرحلےپر زیادہ نمکیات اور سیم زدہ زمین نقصان دہ ہے۔ مسلسل  3 دن تک سیم یا نمی  رہنے سے پیداوار میں  40  سے 45  فی صد تک کمی ہو جاتی ہے۔ مکئی کی بہتر پیداوار کے لیے  مٹی کی پی۔ایچ  5.5  سے  8 ہونی چاہیے۔

بیج کے اُگاؤ کے لیے موزوں درجہ حرارت :مکئی کے بیج کے اُگاؤ کے لیے موزوں درجہ حرارت  21 تا32 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اگر درجہ حرارت  35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو تو نر پھُولوں پر زردانے کم ہو جاتے ہیں اور اگر 15 ڈگری  سینٹی گریڈ سے کم ہو تو مادہ اور نر حصے دیرسے بنتے ہیں۔

مکئی  کی کاشت کا وقت : مکئی  کی فصل کی کاشت وسط اکتوبر  تا  وسط نومبر میں  کی جاتی ہے۔

کاشت کے وقت پودوں اور قطاروں کا درمیانی فاصلہ : ہائی برِڈ مکئی کی اگیتی کاشت کے لیے پودوں کا درمیانی فاصلہ  6 انچ اور پچھیتی کاشت کے لیے 8 تا  10 انچ ہونا چاہیے۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ تقریباً 30 انچ یعنی 1فٹ ہونا چاہیے۔

1)                موسم سرما اور موسم بہار کی مکئی کے لیے پودوں کا درمیانی فاصلہ    20 سینٹی میٹر اور قطاروں کا درمیانی فاصلہ 60 سینٹی میٹر رکھیں۔ 

2 )  میٹھی مکئی کے لیے پودوں کا درمیانی فاصلہ 20 سینٹی میٹر اور قطاروں کا درمیانی فاصلہ 60 سینٹی میٹر رکھیں۔

3) بےبی کارن کے لیے  پودوں کا درمیانی فاصلہ  20 سینٹی میٹر اور قطاروں کا درمیانی فاصلہ 60 سینٹی میٹر رکھیں۔

4)   پاپ کارن کے لیے  پودوں کا درمیانی فاصلہ  15 سینٹی میٹر اور قطاروں کا درمیانی فاصلہ 50 سینٹی میٹر رکھیں۔

5)  چارہ مکئی  کے لیے  پودوں کا درمیانی فاصلہ  10 سینٹی میٹر اور قطاروں کا درمیانی فاصلہ 30 سینٹی میٹر رکھیں۔  

 مکئی کی کاشت کے لیے بیج کی گہرائی : موسم سرما اور موسم بہار کی مکئی کی کاشت کے لیے بیج  3تا       4  سینٹی میٹر گہرا  بوئیں۔  

انٹرکراپنگ:  انٹر کراپنگ سے مراد ہے کِسی فَصل کی قِطاروں کے درمیان دُوسری فصل کے پودے لگانا ۔ مکئی  کی فصل میں  مٹرکے پودے  لگائے جا سکتے ہیں۔   اس مقصدکے لئے مکئی  کے پودوں کی  ہر دو قظاروں کے  بعد ایک قطار  مٹر کے پودوں کی لگائیں ۔ موسم خزاں میں گنے کی فصل میں  اور مکئی کی فصل کاشت  کی جاسکتی ہے۔ گنے کی ہر دو  قطاروں کے بعد مکئی کے پودوں  کی ایک قطار لگائیں ۔

بونے سے پہلے بیج  کو  دوا  لگا کر محفوظ کرنا : مکئی  کے بیج کو کیڑے مکوڑوں  کے حملے اور فنجائی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچانے کے لیے مندرجہ ذیل  کیمیکل استعمال کریں ۔

1۔ کاربینڈازیم یا تھیرم  بحساب 2 گرام  فی کلوگرام بیج  استعمال  لگائیں۔ دوا  لگانےکے بعد بیج  سایہ  دار خشک  جگہ پر15 تا          20 منٹ تک رکھیں ۔

2۔امیڈاکلوپرِڈ 70 ڈبلیو ایس 5 ملی لٹر فی کلوگرام کے حساب سے لگائیں۔

3۔ کاربینڈازیم + کیپٹن (1: 1)  2گرام فی کلو گرام کے حساب سے لگائیں۔

مکئی کی فصل کے لیے پانی کی ضرورت: بارانی علاقوں میں مکئی کی بہتر نشو ونما کے لیے  اسے 500   تا 750 ملی  میٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلی آبپاشی بوائی کے 3 ہفتوں بعد کریں۔ بعد میں فصل کی ضرورت کے مطابق  پانی لگائیں۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ  پانی لگانے کے بعدکھیت میں پانی دیر تک کھڑا  نہ رہے گا ورنہ پودے مر جائیں گے۔  مکئی کی فصل کو 10 سے 15 دن کے وقفے سے پانی لگائیں۔ مکئی کی فصل کو 6 سے 10 بار پانی لگانا پڑتا ہے ۔اس کا انحصار آب و ہوا ، مٹی کی قسم بیج بونے کے طریقے پر ہوتا ہے۔   

§          

مکئی کی فصل کے لیےزمین کی تیاری : بارش یا آب پاشی کے بعد 2 سے 3 بار  20 سے 25 سینٹی میٹر گہرا  ہل چلا کر زمین نرم کرکے اس پر سہاگہ پھیر دیا جاتا ہے۔

مکئی کی  بوائی کے طریقے :  پاکستان میں مکئی کی بوائی عام طور پر چھٹے سے بیج بکھیر کر کی جاتی ہے۔ دوسرا طریقہ رِجر سیڈ ڈرِل  کے ذریعے بیج کی بوائی ہے۔ رجر سیڈ ڈرل ٹریکٹر کے ذریعے استعمال کی جاتی ہے اور اس کی مدد سے  وسیع رقبے پر کم وقت میں بوائی کی جا سکتی ہے۔اس طریقے میں دو وٹوں  کا درمیانی فاصلہ  27 سینٹی میٹر رکھا جاتا ہے۔ پودوں کا درمیانی فاصلہ  20 سے 25 سینٹی میٹر اور قطاروں کا درمیانی فاصلہ  75 سینٹی میٹر رکھا جاتا ہے۔

§          ایک ایکڑ رقبے میں مکئی کے  پودوں کے تعداد : ایک ایکڑ  رقبے میں  مکئی کے  پودوں کی تعداد  33 سے 35 ہزار  ہوتی ہے۔

§         مکئی کی کاشت کے اوقات : موسم بہار کی مکئی  کی کاشت  جنوری کے پہلے ہفتے  سے مارچ  کے پہلے ہفتے تک کی جاتی ہے  اور یہ فصل  50 سے 60 دنوں میں پک کر تیار ہو جاتی ہے۔ اس کی پیداوار 100 سے 120 من فی ایکڑ ہوتی ہے۔

§  موسم خزاں کی  مکئی کی کاشت  جولائی کے  آخری ہفتے  سےوسط اگست تک کی جاتی ہے اور  یہ فصل  پکنے کے لیے 60 دن سے زیادہ کا وقت لیتی ہے۔  اس کی پیداوار 60 سے 80 من فی ایکڑ ہوتی ہے۔

§  بیج کی شرح :    مکئی کے دانوں کےحصول کے  لیے بیج کی شرح 10 تا 12 کلوگرام بیج فی ایکڑ ہے جب کہ  چارے کے حصول کے لیے بیج کی شرح  40 تا 50 کلو گرام فی ایکڑ ہے۔ تاہم پتلے تنوںوالی فصل  جو چارے کے طور پر زیادہ مقبول ہے کے حصول کے لیے بیج کی فی ایکڑ شرح  بڑھائی جا سکتی ہے۔

بوائی سے پہلے بیج  کو کیمیکل لگانا :  مکئی کا بیج بونے سے پہلے اسے  تیلسا اور آغاز میں سے کوئی ایک فنجی سائڈ لگا ئیں تاکہ  بیج کےاُگاؤ کے بعد اسے شوٹ فلائی اور دیگر کیڑوں کے حملے سے بچایا جاسکے۔

 پاکستان میں مکئی کی ورائٹیز (اقسام) : پاکستان میں مکئی کی مندرجہ ذیل اقسام کاشت کی جاتی ہیں۔

نیلم،  اکبر،    سلطان، سرگودھا  2002،  ساہیوال  2002 ،  صدف

ان میں سے سرگودھا  2002  ایک نئی ورائٹی ہے جو کھیت میں زیادہ دیر تک سرسبز رہتی ہے اور اس کی پیداوار دیگر اقسام  کی نسبت  50  من فی ایکڑ زیادہ ہوتی ہے۔  

اس کے علاوہ پاکستانی  ہائی برِڈ کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں۔

پی 1543 ، پی 1574

  DEKLB-6724، اور H- 421، H- 810

مکئی  کی فصل کے لئے ضروری غذائی اجزاء : مکئی کی فصل کے لیےضروری غذائی اجزاکی  فی ایکڑ شرح  250 کلو گرام نائٹروجن، 150 کلوگرام فاسفورس اور 100 کلو گرام پوٹاشیم ہے۔

مکئی کی فصل کے لیے فی ایکڑکھاد کی شرح :   فاسفورس والی کھاد ڈی۔ اے۔پی 2 بوری اور پوٹاشیم والی کھاد پوٹاش 1 بوری صرف ایک بار بوائی کے وقت استعمال کریں۔ نائٹروجن والی کھاد یوریا  کی 3 سے 4 بوری وقفے وقفے سے پانی لگاتے وقت استعمال کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ فصل کے لیے درکار  نائٹروجن کی کُل مقدار کا نصف  یعنی 125 کلو گرام بوائی کے وقت  استعمال کرنا ہے اوربقیہ نصف مقدار 2 بار استعمال کرنی ہے۔ پہلی بار اس وقت جب فصل  گھٹنوں کے برابر اُونچی ہو جائے اور دووسری بار اس وقت جب پودوں پر نر پھُول آنا شروع ہو جائیں۔

ہائبرڈ مکئی  کی فصل کے لئے ضروری غذائی اجزاء :

نائٹروجن: 160 کلوگرام فی ایکڑ

فاسفورس: 80 کلوگرام فی ایکڑ

• پوٹاشیم: 60 کلوگرام فی ایکڑ

 ہائبرڈ مکئی  کی فصل کے لئے فی ایکڑکھاد کی شرح:  یوریا کھاد کُل 6.5 بوریاں فی ایکڑ۔ ان میں سے 2 بوری بوائی کے وقت ، 1.5  بوری 3تا  4 پتےنکلنے کے بعد ، 1.5 بوری پودوں کی اونچائی گھٹنوں کے برابر ہونے پر اور 1.5 بوری پھول آنےسے پہلےڈالیں۔

DAP   کھاد کی  3.5  بوریاں فی ایکڑ بوائی کے وقت۔

پوٹاش  کی2.5 بوریاں فی ایکڑ۔ ان میں سے 1.5 بوری بوائی  کے وقت اور 1بوری اس وقت ڈالیں جب فصل کی اُونچائی گھٹنوں کے برابر ہو جائے۔

مکئی کی فصل  کو کھاد دینے  سے پہلے زمین کا ٹیسٹ کروا لیں اور   ٹیسٹ کے رزلٹ کے مطابق زمین میں  جس جز کی کمی ہو  اس جز والی کھاد کا استعمال کریں۔ 

مکئی کی فصل سے جڑی بوٹیوں کی تلفی :  مکئی کی فصل میں جڑی بوٹیاں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جڑی بوٹیاں  فصل کو 20  تا 50 فی صد تباہ کر دیتی ہیں لہٰذا اچھی پیداوار کے لیے ان کا  خاتمہ بہت ضروری ہوتا ہے۔انھیں  ہاتھ سے  اُکھاڑ کر یا  کیمیکلز کااستعمال کرکے تلف کیا جاتاہے۔ اگررقبہ کم ہو تو انھیں ہاتھ سے اُ کھاڑ کر  تلف کیا جا سکتا ہےلیکن اگر رقبہ وسیع ہو تو پھر  مندرجہ ذیل کیمیکل کا سپرے کریں۔

350 ملی لٹر ایٹرازین  Atrazine کو 200 لٹر پانی میں ملا کربحساب فی ایکڑ سپرے کریں۔ جڑی بوٹیاں اُگنے سے پہلے ہی کنٹرول کرنے کے لیے 800 ملی لٹر  پرائم ایکسٹرا گولڈ کو 200 لٹر پانی میں ملاکر کربحساب فی ایکڑ سپرے کریں۔

مکئی کی فصل  کے کیڑےاورعلاج

تنے میں سوراخ کرنے والا کیڑا  Stem Borer :بیج کے اُگاؤ کے فوراً بعد مکئی کی فصل کو سب سے زیادہ خطرہ تنے میں سوراخ کرنے والے کیڑے سے ہوتا ہے۔ یہ کیڑا  تنے میں سوراخ کر دیتا ہے۔ صرف اس کیڑے کے حملے کی وجہ سے  فصل کی اوسط پیداوار میں 10 سے 30 فی صد تک کمی آ جاتی ہے۔ اگیتی کاشت کی جانے والی فصل میں یہ نقصان  50 فی صد تک ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ مکئی کی فصل پر شوٹ فلائی اور فوجی کترے کا حملہ بھی ہوتا ہے۔ شوٹ فلائی پودوں کی نئی شاخوں کو نقصان پہنچاتی ہے جس سے پودوں کی نشو ونما رک جاتی ہے۔ فوجی کترے کے لاروے پتوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ان میں  سوراخ کر دیتے ہیں۔

علاج : ان دونوں قسم کے کیڑوں سے بچاؤ کے لیے فصل پر  فیوراڈان  دانے دار/پاؤڈر20 کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے چھڑک کراس کے بعد پانی لگا دیا جائے۔ یہ چھڑکاؤ  2 بار کیا جائے ۔پہلا چھڑکاؤ اس وقت کیا جائے جب پودوں کے 3 تا 4 پتے نکل آئیں اور دوسرا چھڑکاؤ اس وقت جب پودوں کی اُونچائی گھٹنوں کے برابر ہو جائے۔

مکئی کی فصل  کی بیماریاں اور علاج

مکئی کی فصل کی مندرجہ ذیل بڑی بڑی بیماریاں ہیں۔

مکئی کےپودوں کے تنوں کا گلنا سڑنا  Maize Stalk Rot : پودوں کے تنوں کا گلنا سڑنا ایک ایسی خطرناک بیماری ہے  جو فصل کے معاشی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ اس سے بچاؤ کا واحد حل بہتر ورائٹی  کی کاشت ہے۔

پتوں کو کیڑا لگنا Leaf Blight : اس بیماری میں پودے کے نچلے پتے متاثر ہوتے ہیں جب کہ اُوپر والے حصے میں نئے پتے نکلتے رہتے ہیں ۔ اس بیماری میں پودے کمزور ہو جاتے ہیں اور اگر زیادہ پتوں کو کیڑا لگ جائے تو  پیداوار بہت کم ہو جاتی ہے۔

علاج :  ان دونوں بیماریوں کا علاج یہ ہے کہ  بیج کو بونے سے پہلے  فنجی سائڈ،   ویٹا ویکس  Vitavex یا   بین لیٹ Benlate لگا دیں۔

       مکئی کی فصل کی کٹائی : اگر مکئی چارے کے لیے کاشت کی گئی ہو تو  جب فصل پر 50 فی صد  پھُول آجائیں تو اس کی کٹائی شروع کر  دیں۔ اور اگر اناج کے لیے کاشت کی گئی ہو تو فصل 55 سے 65 دنوں میں پک کر تیار ہو جاتی ہے۔

مکئی کی فصل کی  فی ایکڑپیداوار :  مکئی کی فصل کی پیداوار کا انحصار اس  کی ورائٹی  اور فصل کی دیکھ بھال پر ہے۔ بہتر ورائٹی اور مناسب دیکھ بھال سے 500 ٹن فی ایکڑ تک پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔

مکئی کی پیداوار ذخیرہ یعنی سٹور کرنا : مکئی کے دانے سٹوں سے الگ کرنے کے بعد  انھیں جیوٹ گنی بیگز میں  بھر کر ٹھنڈی، ہوا دار اور خشک جگہ پر سٹور کریں۔ گودام کا درجہ حرارت  20 تا 25 ڈگری سینٹی گریڈ اور نمی کا تناسب 30 تا 50 فی صد ہونا چاہیے۔ گودام میں ناج کی بوریاں مٹی کےکچےفرش پر مت رکھیں بلکہ لکڑی کے تختوں یا پختہ فرش پر رکھیں۔

ترتیب و تدوین :  اکرام سعید

وٹس ایپ : +92-348-1633298

Post a Comment

0 Comments